ہفتہ، 30 جنوری، 2016

سید مودودی کی فکر سے کھینچا تانی

آج کل ہر طرف بےاختیار چھلکتی دانشوری دیکھ کر تو لگتا ہے کہ بیچارے سید مودودی خود اپنے نظریے کو ہی صحیح طور سے نہ سمجھ پائے۔  اپنے نظریات کی ایسی ایسی وضاحتیں اور اطلاق دیکھ کر حسرت سے سوچتے ہوں گے کہ  الہام اور  فہم کی اس منزل پر کیوں نہ پہنچ پائے۔ ساری عمر جدوجہد میں لگے رہے لیکن آج پانچ، چھ دہائیوں بعد کے دانشور جس رستے اور دہشت گردی کی بنیاد ان کی فکر کو قرار دے رہے ہیں، اس رستے پر چلنے والا کوئی فرد مولانا اپنی زندگی میں تیار نہ کر سکے، اس کے باوجود کہ لاکھوں افراد تک ان کی فکر پہنچی اور لوگ ان سے متاثر ہوئے۔ بس بیکار میں پرامن اور آئینی جدوجہد کرتے رہے۔


فکر مودودی کو دہشت گردی سے جوڑنا ایک ایسا بے سروپا الزام ہے جس کی کوئی دلیل مولانا مودودی کے نظریات ، لٹریچر  یا عملی جدوجہد، کہیں  سے بھی فراہم نہیں کی جا سکتی۔مولانا نے صرف ایک نظریہ ہی پیش نہیں کیا بلکہ اس کے نفاذ کے لیے عملی جدوجہد کی۔ اگرچہ اس الزام کا کوئی ثبوت ان کی تحاریر و تقاریر سے بھی پیش نہیں کیا جا سکتا لیکن پھر بھی لفظی دلائل سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے  کہ انہوں نے اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے خود کس رستے کا انتخاب کیا۔ اگر کسی نظریہ اور اس کے عملی اطلاق میں کوئی اشکال درپیش ہو تو اس کی مستند ترین وضاحت اور تشریح خود صاحب فکر کی طرف سے ہی ہو سکتی ہے۔ مولانا مودودی ‘اسلامی نظام کا غلبہ’ چاہتے تھے، 'اسلامی ریاست'  کا قیام اور 'کفریہ نظام' کا خاتمہ چاہتے تھے۔ اس نظریے اور اصطلاحات کی عملی مثالیں آج بعض دانشور  دہشت گردوں، داعش، طالبان وغیرہ کی شکل میں پیش کر رہے ہیں لیکن مولانا نے خود اپنی زندگی میں اپنے نظریے کی بالادستی کے  لیے کیا رستہ اختیار کیا اور اس فکر کی عملی تشریح کس طرح کی،   پرامن طریق کار کے علاوہ کسی بھی غیر آئینی یا متشدد رجحانات کی طرف جانے والے تمام تر رستوں کی بیخ کنی بالکل واضح انداز میں کس طرح کی۔ اس کے متعلق سب راویان خاموش ہیں۔ فکر مودودی سے کھینچا تانی کرنے والے سب ناقدین کا جائزہ لے لیں لیکن کوئی اس نکتہ پر بات نہیں کرتا کہ ان  کی فکر اور نظریات کو  متشدد اور دہشت گردی  کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے تو زندگی بھر وہ ان رجحانات کی مخالفت  کیوں کرتے رہے اور خود وہی رستہ اختیار کیوں نہیں کیا۔اس دانستہ پہلوتہی کو کیا کہا جائے؟

فکر مودودی کے عروج کا زمانہ پاکستان بننے کے بعد کی تین دہائیاں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وہی زمانہ ہے جس کو ہمارے وہی  مہربان لبرل ترین  پاکستان قرار دیتے ہیں جو آج فکر مودودی کا  تعلق دہشت گردی سے جوڑتے ہیں۔ یہ دوست بڑی حسرت سے ان دنوں کی تصاویر کے البم دکھاتے ہیں اور آنکھوں میں آنسو بھر کے سوال کرتے ہیں کہ کیا ہماری تاریخ کا وہ دور واپس نہیں آ سکتا۔ مولانا مودودی کی فکر اگر تشدد  اور دہشت گردی کا رستہ دکھانے والی ہوتی اور ان کا نظریہ دہشت پسندی کے رجحانات رکھتا ہوتا تو یہ دور موزوں ترین وقت تھا جب ایسے 'متشدد' نظریے کے جبری اطلاق کے لیے بہت سے پرکشش مظاہر ہر طرف بکھرے پڑے تھے۔ آج دہشت گرد جن دلائل کی بنا پر اپنی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، 50، 60 اور 70 کی دہائی میں تو ان سے کہیں بڑھ کر مضبوط اور واضح جواز میسر تھے ۔ اسلام مخالف نظریات باقاعدہ شعوری سطح پر موجود تھے۔  'کفریہ' نظام تعلیم موجود تھا۔ معاشرے میں مرد و زن کا آزادانہ اختلاط آج سے کہیں بڑھ کر تھا۔ قادیانیوں کو غیر مسلم بھی 1974 میں قرار دیا جو اس سے پہلے ایک اسلام مخالف عامل کے طور پر موجود رہے ۔ اس سے پہلے اور بعد میں قادیانیوں کے ساتھ نظریاتی کشمکش کی پوری تاریخ موجود ہے۔قادیانی  مسئلہ لکھنے پر مولانا کو سزاؤں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ لیکن اس پورے عمل میں کہیں بھی مولانا مودودی نے نظریاتی اور پرامن کاوشوں کے علاوہ کسی اور راستے کی طرف اشارہ نہیں کیا۔ یہ ایسا دور تھا جس میں سب سے بڑھ کر ایسے نظریے کا خالق خود عملی جدوجہد کے ساتھ میدان میں موجود تھا۔ پھر کیا وجہ ہوئی کہ ایسے 'آزاد خیال اور لبرل 'پاکستان میں بھی  مولانا مودودی کوئی باقاعدہ تنظیم تو دور کی بات، انفرادی سطح پر بھی کوئی گروہ یا جتھا تیار نہ کر سکے جو ایسے علانیہ شریعت مخالف اور 'کفریہ' مظاہر کی بیخ کنی کرنے کے لیے مسلح کاروائی کر سکتا۔ حتی کہ مولانا کے لٹریچر سے متاثر ہونے والے نوجوانوں کی کثیر تعداد  جو اسلامی جمعیت طلبہ کی شکل میں تعلیمی اداروں کی یونین میں فعال کردار ادا کر رہے تھے، مولانا نے ان کے لیے کہیں اشارتا بھی ذکر نہیں کیا کہ اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے مسلح جدوجہد بھی ایک قابل قبول لائحہ عمل کے طور پر موجود ہے۔  پھر مولانا نے ستم یہ کیا کہ جو جماعت قائم کی اس کے بھی دستور میں لکھوا گئے کہ کوئی خفیہ اور غیر آئینی رستہ اختیار نہیں کیا جائے گا۔ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ مولانا مودودی نے محض خلا میں معلق اصطلاحات ہی پیش نہیں کیں بلکہ  ان اصطلاحات  کے مکمل سیاق و سباق، ان سے منسلک مکمل نظام کا نہ صرف شعوری خاکہ پیش کیا بلکہ اپنے مجوزہ نظام تک پہنچنے کے لیے رستہ کا تعین بھی واضح انداز میں کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلح اور پرتشدد راستوں کی خرابیوں کو نہ صرف اپنی فکر سے واضح کیا بلکہ عملی طور پر سیاسی اور جمہوری رستے کا انتخاب کر کے اپنی ترجیحات کی مثال بھی قائم کر دی جس کے بعد کسی کے پاس یہ گنجائش باقی نہیں رہتی کہ وہ خواہ مخواہ کی کھینچا تانی سے فکر مودودی کے بطن سے دہشت گردی برآمد کرنے کی کوشش کرے۔


درج ذیل اقتباسات کا مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ اس شخص کی فکر پر دہشت گردی کی بنیاد ہونے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔

"اسلام میں ترتیب کار یہ ہے کہ پہلے ذہنوں کی اصلاح کا کام تعلیم و تلقین کر ذریعے سے کیا جائے تاکہ لوگوں کے خیالات تبدیل ہوں۔ پھر لوگوں کے اندر اسلامی اخلاق پیدا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کام کیا جائے۔ یہاں تک کہ محلے محلے، بستی بستی اور کوچے کوچے میں ایسے لوگ تیار ہو جائیں جو بدکرداروں کو عوام کی مدد سے دبائیں اور اپنے اپنے علاقوں کے باشندوں میں دین داری اور دیانت داری پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ اس طرح ملک کے اندر ایک ایسی رائے عامہ پیدا ہو جائے گی جو برائیوں کو سر نہ اٹھانے دے گی"
"یہ بات ذہن نشین کر لیجیے کہ ہم اس وقت جس مقام پر کھڑے ہیں،  اسی مقام سے ہمیں آگے چلنا ہو گا اور جس منزل تک ہم جانا چاہتے ہیں اسے واضح طور پر نگاہ کے سامنے رکھنا ہو گا تاکہ ہمارا ہر قدم اسی منزل کی طرف اٹھے۔ خواہ ہم پسند کریں یا نہ کریں نقطۂ آغاز تو لامحالہ یہی انتخابات ہوں گے کیوں کہ ہمارے ہاں اسی طریقے سے نظام حکومت تبدیل ہو سکتا ہے اور حکمرانوں کو بھی بدلا جا سکتا ہے۔ کوئی دوسرا ذریعہ اس وقت ایسا موجود نہیں جس سے ہم پرامن طریقے سے نظام حکومت بدل سکیں اور حکومت چلانے والوں کا انتخاب کر سکیں۔
اب ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہمارے ہاں انتخابات میں دھونس، دھوکے، دھاندلی، علاقائی، مذہبی یا برادری کے تعصبات، جھوٹے پروپیگنڈے، گندگی اچھالنے، ضمیر خریدنے، جعلی ووٹ بھگتانے او بےایمانی  سے انتخابی نتائج بدلنے کے غلط طریقے استعمال نہ ہوں۔ انتخابات دیانت دارانہ ہوں۔ لوگوں کو اپنی آزاد مرضی سے اپنے نمایندے منتخب کرنے کا موقع دیا جائے۔ پارٹیاں اور اشخاص جو بھی انتخابات میں کھڑے ہوں وہ معقول طریقے سے لوگوں کے سامنے اپنے اصول، مقاصد اور پروگرام پیش کریں، اور یہ بات ان کی اپنی رائے پر چھوڑ دیں کہ وہ کسے پسند کرتے ہیں اور کسے پسند نہیں کرتے۔ ہو سکتا ہے کہ پہلے انتخاب میں ہم عوام کے طرز فکر اور معیار انتخاب بدلنے میں پوری طرح کامیاب نہ ہو سکیں۔ لیکن اگر انتخابی نظام درست رکھا جائے تو ایک وقت ایسا آئے گا جب نظام حکومت پورے کا پورا ایمان دار لوگوں کے ہاتھ میں آ جائے گا۔ اس کے بعد پھر ہم نظام انتخاب پر نظر ثانی کر سکتے ہیں اور اس مثالی نظام انتخاب کو ازسر نو قائم کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں جو اسلامی طریقے کے عین مطابق ہو۔ بہرحال آپ یک لخت جست لگا کر اپنی انتہائی منزل تک نہیں پہنچ سکتے۔"
(اقتباسات از انٹرویو سید ابو الاعلی مودودی برائے ریڈیو پاکستان، مارچ 1978۔ کتابی شکل میں 'نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نظام حکومت اور پاکستان میں اس کا نفاذ' کے نام سے دستیاب ہے)

"اسلامی تحریک کے کارکنوں کو میری آخری نصیحت یہ ہےکہ انہیں  خفیہ تحریکیں چلانے اور اسلحہ کے ذریعے سے انقلاب برپا کرنے کی کوشش نہ کرنی چاہیے۔ یہ بھی دراصل بےصبری اور جلد بازی ہی کی ایک صورت ہے اور نتائج کے اعتبار سے دوسری صورتوں کی نسبت زیادہ خراب ہے۔ ایک صحیح انقلاب ہمیشہ عوامی تحریک کے ذریعے سے  برپا ہوتا ہے۔" مکہ معظمہ میں عرب نوجوانوں سے خطاب

"اسلامی حکومت کسی معجزے کی شکل میں صادر نہیں ہوتی۔ اس کے پیدا ہونے کے لیے ناگزیر ہے کہ ابتدا میں ایک ایسی تحریک اٹھے جس کی بنیاد میں وہ نظریۂ حیات، وہ مقصد زندگی، وہ معیار اخلاق، وہ سیرت و کردار ہو جو اسلام کے مزاج سے مناسبت رکھتا ہے۔ اس کے لیڈر اور کارکن صرف وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اس خاص طرز کی انسانیت کے سانچے میں ڈھلنے کے لیے مستعد ہوں۔ پھر وہ اپنی جدوجہد سے سوسائٹی میں اسی ذہنیت اور اسی اخلاقی روح کو پھیلانے کی کوشش کریں۔ پھر اسی بنیاد پر تعلیم و تربیت کا ایک نیا نظام اٹھے جو اس مخصوص ٹائپ کے آدمی تیار کرے۔اس سے مسلم فلسفی، مسلم مورخ، مسلم ماہرین مالیات و معاشیات، مسلم ماہرین قانون، مسلم ماہرین سیاست غرض ہر شعبۂ علم و فن میں ایسے آدمی پیدا ہوں جو اپنی نظروفکر کے اعتبار سے مسلم ہوں۔ جن میں یہ قابلیت موجود ہو کہ افکار و نظریات کا ایک پورا نظام اور عملی زندگی کا ایک مکمل خاکہ اسلامی اصول پر مرتب کر سکیں اور جس میں اتنی طاقت ہو کہ دنیا کے ناخدا شناس آئمۂ فکر کے مقابلہ میں اپنی عقلی و ذہنی سیادت کا سکہ جما دیں۔" مسلم یونیورسٹی علیگڑھ میں 12 ستمبر 1940 کو پڑھا گیا مقالہ

مولانا مودودی کی فکر کا تعلق دہشت گردی سے جوڑنے کے حوالے سے دلیل پیش کی جاتی ہے کہ بہت سی تنظیمیں اور افراد ان کے لٹریچر کے ذریعے اس رستے تک پہنچے جس کا اعتراف یہ تنظیمیں اور لوگ خودکرتے ہیں چنانچہ اب اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ فکرِمودودی نے ہی ان کی سوچ کی آبیاری کی ہے ۔  اگر اس فکری الزام تراشی کے لیے بس اتنا ثبوت ہی کافی ہے تو یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ وہی تنظیمیں اور افراد اپنا تعلق براہ راست قرآن اور سیرت سے بھی جوڑتے ہیں اور قرآنی آیات / احادیث/ سیرت کے واقعات سے اپنے اقدامات کے لیے جواز کشید کرتے ہیں۔ تو کیا قرآن اور سیرت کے اس فہم کے قابل قبول ہونے کے لیے بھی  بس ان لوگوں کا اعتراف اور حوالہ کافی ہو گا؟ 

مولانا مودودی نے اپنے تصور دین کے ابلاغ اور نفاذ کے لیے کس راستے کا انتخاب کیا، اس کا علم تو ان کی عملی جدوجہد کے مطالعے سے بخوبی ہو سکتا ہے لیکن اس سے ہٹ کر بھی آپ نے ان کی درج بالا تحاریر و تقاریر میں جا بجا اس ابہام کی نفی دیکھی جس کا ایک خیالی تصور تخلیق کر کے ہمارے دانشور دکھانا چاہتے ہیں کہ فکر مودودی میں دہشت گردی کو ایک بیانیہ اور جواز فراہم کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ لیکن ایسی دانشوری کا کیا کیجیے جو محض چند الفاظ اور اصطلاحات  کو اپنے گورکھ دھندے کی بنیاد بناتی ہو،  صاحب فکر نے ان کی جو لفظی اورعملی تشریح کی ہو اس پر بات کرنے سے دانستہ گریز کرے ۔ اس کی دو ہی وجوہات سامنے آتی ہیں۔  اول یہ کہ دانش کی اس سطح پر ہمارے مہربان اس پورے معاملہ کا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر دانستہ  علمی بددیانتی سے کام لیا جا رہا ہے۔ دانشوری کے کاروبار میں سب سے آسان کام ہی الفاظ کا گورکھ دھندا کرنا، ابہام پیدا کرنا اور گرد اڑانا ہے، تو گرد اڑائیے جتنی اڑا سکتے ہیں لیکن خاطر جمع رکھیے۔ ایسے الزامات کے مقابلے میں مولانا مودودی کی زندگی بھر کی عملی جدوجہد ناقابل تردید گواہی کی صورت میں ہمیشہ موجود رہے گی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

یہاں تبصرہ کرنے کے لیے صرف ایک بات کا خیال رکھنا ضروری ہے اور وہ ہے 'اخلاقیات'