منگل, جنوری 16, 2018

ایک ادھورے فیصلے کی دوسری مؤدبانہ برسی


مجھے  اپریل 2009 کا وہ دن یاد ہے۔ غالبا دو یا تین تاریخ تھی۔ ہم لاہور دفتر میں  کام کر رہے تھے جب اچانک یہ خبر پھیلی کہ سوات میں طالبان کے ایک لڑکی کو سرعام کوڑے لگانے اور تشدد کرنے کی بہیمانہ اور سفاک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔  بس خبر  آنے کی دیر تھی۔ یہاں سے وہاں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ پورے ملک میں کہرام برپا ہو گیا۔۔  چیخ پکار شروع ہو گئی۔ کف اڑاتی شہ سرخیوں اور بیانات کا سیلاب آ گیا۔  این جی اوز میدان میں کود پڑیں۔ چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لے لیا اور اپنی سربراہی میں تحقیقاتی بنچ قائم کر دیا۔حسبِ توفیق ہم نے بھی غم و غصہ کا اظہار کیا اور اپنا حصہ ڈالتے رہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں بھی یہ ویڈیو خبروں کا مرکز بنی رہی۔

اتوار, اکتوبر 8, 2017

ایک سادہ سوال

بات بہت سادہ  ہے
قرآن پر ایمان رکھنے والوں کے لیے   خاص طور پر قرآن کا سوال ہے
أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ (115) سورہ المؤمنون
"کیا تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تمہیں فضول ہی پیدا کیا ہے اور تمہیں ہماری طرف کبھی پلٹنا ہی نہیں ہے؟"
سوال بالکل واضح ہے۔۔  ہر فرد سے ہے۔۔ اس میں کوئی تخصیص نہیں ہے۔۔
ہر کسی کو اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہے

ہفتہ, جنوری 30, 2016

سید مودودی کی فکر سے کھینچا تانی

آج کل ہر طرف بےاختیار چھلکتی دانشوری دیکھ کر تو لگتا ہے کہ بیچارے سید مودودی خود اپنے نظریے کو ہی صحیح طور سے نہ سمجھ پائے۔  اپنے نظریات کی ایسی ایسی وضاحتیں اور اطلاق دیکھ کر حسرت سے سوچتے ہوں گے کہ  الہام اور  فہم کی اس منزل پر کیوں نہ پہنچ پائے۔ ساری عمر جدوجہد میں لگے رہے لیکن آج پانچ، چھ دہائیوں بعد کے دانشور جس رستے اور دہشت گردی کی بنیاد ان کی فکر کو قرار دے رہے ہیں، اس رستے پر چلنے والا کوئی فرد مولانا اپنی زندگی میں تیار نہ کر سکے، اس کے باوجود کہ لاکھوں افراد تک ان کی فکر پہنچی اور لوگ ان سے متاثر ہوئے۔ بس بیکار میں پرامن اور آئینی جدوجہد کرتے رہے۔

اتوار, دسمبر 13, 2015

اگر بہ او نہ رسیدی تمام بو لہبی است

نعت رسول [صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]
------------------------------------
تھا سفر کٹھن، سو ترے سوا کوئی رہنما نہ مرا ہوا
مرے دشتِ جاں میں قدم قدم، ترا نقشِ پا ہے سجا ہوا

یوں تو لاکھ رنگ ہیں درد کے، جو کہ چار سو ہیں کِھلے ہوئے
وہ کسک، وہ سوز کہاں کہ جو ترے غمزدوں کو عطا ہوا

منگل, نومبر 17, 2015

یہ جھنڈا گردی


گویا یہ طے ہو چکا ہے کہ آپ کو ان دو حیثیتوں میں سے ایک تو طوعا یا کرھا اختیار کرنی ہی پڑے گی؟
اگر آپ نے اپنی پروفائل تصویر پر مقتولین سے اظہار یکجہتی کے طور پر ان کا پرچم نہیں لگایا تو آپ دہشت گردوں کے ساتھی ہیں۔ اور اگر آپ نے ایسا کیا ہے تو آپ کو باقی پوری دنیا میں مسلمانوں کے بہتے لہو پر کوئی افسوس نہیں ہے۔
یہ ہے سوشل میڈیا کی تازہ ترین جبری تقسیم اور ایک خودساختہ فرضی تاثر جس کی بنیاد پر ہوائی قلعے تعمیر کر کے سنگ باری شروع کر دی گئی ہے۔ جس کو اس حد تک مبالغہ آمیز بنایا گیا اور فیصلہ کن عامل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے کہ اچھے خاصے سنجیدہ اور معقول لوگ اس رو میں بہتے چلے جا رہے ہیں۔