ہفتہ، 30 جنوری، 2016

سید مودودی کی فکر سے کھینچا تانی

آج کل ہر طرف بےاختیار چھلکتی دانشوری دیکھ کر تو لگتا ہے کہ بیچارے سید مودودی خود اپنے نظریے کو ہی صحیح طور سے نہ سمجھ پائے۔  اپنے نظریات کی ایسی ایسی وضاحتیں اور اطلاق دیکھ کر حسرت سے سوچتے ہوں گے کہ  الہام اور  فہم کی اس منزل پر کیوں نہ پہنچ پائے۔ ساری عمر لگے رہے لیکن آج پانچ، چھ دہائیوں بعد کے دانشور جس رستے اور دہشت گردی کی بنیاد ان کی فکر کو قرار دے رہے ہیں، اس رستے پر چلنے والا کوئی فرد مولانا اپنی زندگی میں تیار نہ کر سکے، اس کے باوجود کہ لاکھوں افراد تک ان کی فکر پہنچی اور لوگ ان سے متاثر ہوئے۔ بس بیکار میں پرامن اور آئینی جدوجہد کرتے رہے۔

اتوار، 13 دسمبر، 2015

اگر بہ او نہ رسیدی تمام بو لہبی است

نعت رسول [صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]
------------------------------------
تھا سفر کٹھن، سو ترے سوا کوئی رہنما نہ مرا ہوا
مرے دشتِ جاں میں قدم قدم، ترا نقشِ پا ہے سجا ہوا

یوں تو لاکھ رنگ ہیں درد کے، جو کہ چار سو ہیں کِھلے ہوئے
وہ کسک، وہ سوز کہاں کہ جو ترے غمزدوں کو عطا ہوا

منگل، 17 نومبر، 2015

یہ جھنڈا گردی


گویا یہ طے ہو چکا ہے کہ آپ کو ان دو حیثیتوں میں سے ایک تو طوعا یا کرھا اختیار کرنی ہی پڑے گی؟
اگر آپ نے اپنی پروفائل تصویر پر مقتولین سے اظہار یکجہتی کے طور پر ان کا پرچم نہیں لگایا تو آپ دہشت گردوں کے ساتھی ہیں۔ اور اگر آپ نے ایسا کیا ہے تو آپ کو باقی پوری دنیا میں مسلمانوں کے بہتے لہو پر کوئی افسوس نہیں ہے۔
یہ ہے سوشل میڈیا کی تازہ ترین جبری تقسیم اور ایک خودساختہ فرضی تاثر جس کی بنیاد پر ہوائی قلعے تعمیر کر کے سنگ باری شروع کر دی گئی ہے۔ جس کو اس حد تک مبالغہ آمیز بنایا گیا اور فیصلہ کن عامل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے کہ اچھے خاصے سنجیدہ اور معقول لوگ اس رو میں بہتے چلے جا رہے ہیں۔

جمعرات، 5 فروری، 2015

پہلے اور دوسرے اور تیسرے کی موت

 یہ تب کی بات ہے جب میں مر چکا تھا۔
درندے مجھے بھنبھوڑ رہے تھے لیکن میں الگ بیٹھا حیرانی سے اپنے لاشے کو دیکھ رہا تھا جو کئی ٹکڑوں میں بٹ چکا تھا اور شیطان میرے پہلو میں کھڑا قہقہے لگا رہا تھا۔
موت کا یہ تجربہ عجیب ہی تھا۔ ویسے تو موت سے میں کئی مرتبہ دوچار ہوا تھا لیکن  ایسی  بے اذیت موت مجھے پہلے کبھی نہیں آئی تھی۔

سوموار، 2 فروری، 2015

عشق تمام مصطفی - صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

نہیں بھائی، یہاں نہیں۔۔۔ اب آ گئے ہیں تو اپنی ساری عقل و دانش، دلیل، منطق اس گھر سے باہر رکھ آئیے۔۔

حرم نبوی کی زیارت کی سعادت نصیب  ہوئی تو ریاض الجنۃ میں حاضری کے لیے لائن میں لگ گئے۔ اس دفعہ ریاض الجنۃ کے زائرین کو تین گروہوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ایک گروہ ریاض الجنۃ میں موجود ہوتا تھا اور قریب ہر آدھے گھنٹے بعد انہیں روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جالیوں والی سمت سے رخصت کر کے ریاض الجنۃ کو خالی کرا لیا جاتا تھا۔ دوسرا گروہ ریاض الجنۃ سے متصل بنائی گئی انتطار گاہ میں موجود رہتا اور ریاض الجنۃ کے خالی ہونے کے بعد اس گروہ کو وہاں داخلے کی اجازت ملتی۔ اس انتظار گاہ کے بعد مسجد نبوی کا ہال اور باقی تمام حصہ تھا۔ تیسرے گروہ کے لوگ مسجد میں سے اکٹھے ہو کر انتظار گاہ کی دیوار کے ساتھ جمع ہو جاتے تھے۔ اور جب انتظار گاہ میں موجود لوگ ریاض الجنۃ میں چلے جاتے تو اس تیسرے گروہ کو انتظار گاہ میں جانے کے لیے دیوار ہٹا دی جاتی تاکہ وہ ریاض الجنۃ میں جانے کے لیے انتظار گاہ میں اپنی باری کا انتظار کریں۔