اتوار، 8 اکتوبر، 2017

ایک سادہ سوال

بات بہت سادہ  ہے
قرآن پر ایمان رکھنے والوں کے لیے   خاص طور پر قرآن کا سوال ہے
أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ (115) سورہ المؤمنون
"کیا تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تمہیں فضول ہی پیدا کیا ہے اور تمہیں ہماری طرف کبھی پلٹنا ہی نہیں ہے؟"
سوال بالکل واضح ہے۔۔  ہر فرد سے ہے۔۔ اس میں کوئی تخصیص نہیں ہے۔۔
ہر کسی کو اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہے

ہفتہ، 30 جنوری، 2016

سید مودودی کی فکر سے کھینچا تانی

آج کل ہر طرف بےاختیار چھلکتی دانشوری دیکھ کر تو لگتا ہے کہ بیچارے سید مودودی خود اپنے نظریے کو ہی صحیح طور سے نہ سمجھ پائے۔  اپنے نظریات کی ایسی ایسی وضاحتیں اور اطلاق دیکھ کر حسرت سے سوچتے ہوں گے کہ  الہام اور  فہم کی اس منزل پر کیوں نہ پہنچ پائے۔ ساری عمر جدوجہد میں لگے رہے لیکن آج پانچ، چھ دہائیوں بعد کے دانشور جس رستے اور دہشت گردی کی بنیاد ان کی فکر کو قرار دے رہے ہیں، اس رستے پر چلنے والا کوئی فرد مولانا اپنی زندگی میں تیار نہ کر سکے، اس کے باوجود کہ لاکھوں افراد تک ان کی فکر پہنچی اور لوگ ان سے متاثر ہوئے۔ بس بیکار میں پرامن اور آئینی جدوجہد کرتے رہے۔

اتوار، 13 دسمبر، 2015

اگر بہ او نہ رسیدی تمام بو لہبی است

نعت رسول [صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]
------------------------------------
تھا سفر کٹھن، سو ترے سوا کوئی رہنما نہ مرا ہوا
مرے دشتِ جاں میں قدم قدم، ترا نقشِ پا ہے سجا ہوا

یوں تو لاکھ رنگ ہیں درد کے، جو کہ چار سو ہیں کِھلے ہوئے
وہ کسک، وہ سوز کہاں کہ جو ترے غمزدوں کو عطا ہوا

منگل، 17 نومبر، 2015

یہ جھنڈا گردی


گویا یہ طے ہو چکا ہے کہ آپ کو ان دو حیثیتوں میں سے ایک تو طوعا یا کرھا اختیار کرنی ہی پڑے گی؟
اگر آپ نے اپنی پروفائل تصویر پر مقتولین سے اظہار یکجہتی کے طور پر ان کا پرچم نہیں لگایا تو آپ دہشت گردوں کے ساتھی ہیں۔ اور اگر آپ نے ایسا کیا ہے تو آپ کو باقی پوری دنیا میں مسلمانوں کے بہتے لہو پر کوئی افسوس نہیں ہے۔
یہ ہے سوشل میڈیا کی تازہ ترین جبری تقسیم اور ایک خودساختہ فرضی تاثر جس کی بنیاد پر ہوائی قلعے تعمیر کر کے سنگ باری شروع کر دی گئی ہے۔ جس کو اس حد تک مبالغہ آمیز بنایا گیا اور فیصلہ کن عامل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے کہ اچھے خاصے سنجیدہ اور معقول لوگ اس رو میں بہتے چلے جا رہے ہیں۔

جمعرات، 5 فروری، 2015

پہلے اور دوسرے اور تیسرے کی موت

 یہ تب کی بات ہے جب میں مر چکا تھا۔
درندے مجھے بھنبھوڑ رہے تھے لیکن میں الگ بیٹھا حیرانی سے اپنے لاشے کو دیکھ رہا تھا جو کئی ٹکڑوں میں بٹ چکا تھا اور شیطان میرے پہلو میں کھڑا قہقہے لگا رہا تھا۔
موت کا یہ تجربہ عجیب ہی تھا۔ ویسے تو موت سے میں کئی مرتبہ دوچار ہوا تھا لیکن  ایسی  بے اذیت موت مجھے پہلے کبھی نہیں آئی تھی۔